Health Tips Symptoms and Treatment

Nabaz Chup Nahi Rehti

Nabaz Chup Nahi Rehti

نبض چپ نہیں رہتی

 Nabaz Chup Nahi Rehti محمد عثمان حمید
نبض عجیب شے ہے ،یہ چپ نہیں رہتی ،بلکہ سب کچھ کہہ دیتی ہے ۔نبض کے ذریعے نباض جسم کو پوشیدہ بیماریوں کے اسباب وعلامات ،ان کے خراب اثرات اور ان سے نجات کے لیے علاج جان لیتے ہیں ۔
نبض پر نباض کی انگلیاں رکھنے کی دیر ہوتی ہے ،وہ انسانی وجود میں پلنے والے مرض کی داستان سنا دیتی ہے ۔سائنس نے امراض کی تشخیص کے لیے جتنی بھی ایجادات کی ہیں ،مثلاً بیش قیمت مشینیں اور آلات ،ان سب کی ساخت نبض کی اساس پر ہے ۔

آج کل ہم معالج کی ہدایت پر مختلف امراض کی تشخیص کے لیے بہت سے ٹیسٹ کرواتے ہیں ۔پھر معالج کو ان کی رپورٹ پڑھ کر پتا چلتا ہے کہ مریض فلاں مرض میں مبتلا ہے ۔اس کے بعد وہ علاج اور ادویہ تجویز کرتے ہیں ۔
پہلے زمانے میں نبض ہی ذریعہ تشخیص تھی اور امراض کے جان لینے کا انحصار اسی پر کیا جاتا تھا ۔

بڑے پائے کے نباض آج بھی تاریخ میں زندہ ہیں اور ہم ان کی علمیت اور مہارت کے بارے میں پڑھ کر حیران ہوتے ہیں ۔

ڈاکٹر جو صدر بین آلہ(STETHOSCOPE) استعمال کرتے ہیں ،وہ بھی نبض ہی کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ صدر بین آلہ بھی انسانی دل کی دھڑکنوں کو معالج کے کانوں تک پہنچا تا ہے ،جس طرح نبض سے دھڑکنوں کا پتا چلتا ہے ۔دھڑکن کی آہنگ اور زیر وبم سے معالج مرض کی تہ تک پہنچ جاتا ہے ۔
بھیرہ کے ایک معروف حکیم نورالدین اپنے زمانے کے ایک حاذق طبیب تھے ،وہ اس دور کے شاہی طبیب تھے ۔بادشاہوں ،راجوں اور مہاراجوں کا علاج کرنا ان کی ذمے داریوں میں شامل تھا،تاہم وہ حرم شاہی کی پردہ دار خواتین کی نبض اس طرح دیکھا کرتے تھے کہ ان کی کلائی دھاگے کے ایک سرے سے بند ھی ہوتی تھی اور اس کا دوسرا سرا حکیم نور الدین کے ہاتھ میں ہوتا تھا اور وہ اپنی حکمت اور مشاقی سے مریضہ کی نبض کی کہانی بیان کردیا کرتے تھے ۔حکیم نور الدین کی شہرت کابل کے بادشاہ تک بھی جا پہنچی ۔
کابل کے بادشاہ نے اس حاذق طبیب کا امتحان لینے کا فیصلہ کیا اور انھیں بلوا کر شاہی مہمان خانے میں ٹھیرا یا۔ایک دو روز بعد حکیم صاحب کو مطلع کیا گیا کہ حرم شاہی کی ایک پردے دار خاتون صاحبِ فراش ہیں ،ان کی نبض دیکھ کر آپ کو مرض کی تشخیص کرنی ہے ۔پردے دار خاتون چوں کہ سامنے نہیں آسکتی تھیں ،لہٰذا دھاگے کی مدد سے ان کی نبض دیکھنی تھی ۔حکیم نور الدین کے لیے یہ تجربہ نیا نہیں تھا ،اس لیے انھوں نے فوراًحامی بھر لی ۔
بادشاہ نے اپنے وزرا اور دربار یوں کے ساتھ مل کر جو منصوبہ بنایا تھا ،اس کے مطابق دھاگے کا ایک سرا خاتون کی کلائی کے بجائے ایک بلی کی ٹانگ سے باندھ دیا اور دوسرا سرا حکیم نور الدین کو تھمادیا گیا۔
انھوں نے دھاگے کا سرا پکڑ کر چند لمحے غور کیا۔پھر بادشاہ کی طرف دیکھا اور مسکراکر عرض کیا:
”جناب عالی! یہ دھاگا خاتون کی کلائی سے نہیں ،بلکہ بلی کی ٹانگ سے بند ھا ہوا ہے اور جہاں تک بلی کا تعلق ہے ،وہ تندرست وتوانا ہے ۔“
ابھی زیادہ عرصہ نہیں بیتا ،ہمارے انگریزی ادویہ کے ماہر ڈاکٹر بھی نبض پر ہی انحصار کیا کر تے تھے ۔
جراحتِ دل کے ایک ماہر سر جن نے اپنی ایک مریضہ کے دل کا آپریشن کیا ۔کچھ عرصے بعد جب وہ مریضہ معمول کا معائنہ کروانے آئیں تو جیسے ہی ڈاکٹر صاحب نے مریضہ کی نبض دیکھی تو فوراً کہا:
”آپ نے میری ہدایت کے باوجود ادویہ باقاعدگی سے نہیں کھائیں اور احتیاطی تدابیر بھی چھوڑ دیں ۔آپ کی نبض بتا رہی ہے کہ مرض پلٹ رہا ہے ۔“
یہ ان ڈاکٹر صاحب کی حذاقت ،علمیت اور مہارت تھی کہ انھوں نے سب کچھ بتادیا ۔نبض آج بھی بدن کا اندرونی احوال بتانے پر قادر ہے ،لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ اب ایسے حاذق طبیب اور مشاق ڈاکٹر بہت کم ہیں ۔چند برس پہلے کی بات ہے کہ ایک خاتون معمولی بخار کے علاج کے لیے ایک عام سے کلینک میں چلی گئیں ،وہاں موجود خاتون ڈاکٹر نے ان کی نبض دیکھی۔ڈاکٹر صاحبہ کو فنِ نباضی پر کافی مہارت حاصل تھی ۔انھوں نے خاتون کو بتایا کہ وہ اُمید سے ہیں اور عین ممکن ہے کہ ان کے ہاں جڑواں بچے پیدا ہوں ۔انھوں نے مریضہ کو ہدایت کی کہ فوری طور پر الٹراساؤنڈ کروائے ،تاکہ حقیقت کا پتا چل سکے۔
یہ حقیقت ہے کہ یونان کی طب اور طبیب دونوں مستند حیثیت رکھتے ہیں ۔طب نے یونان سے اگر جنم نہیں لیا تو فروغ بہر حال پایا ہے ۔فنِ نباضی آج اس طرح عام نہیں ہے ،جتنا ماضی میں تھا ،لیکن اس کی اہمیت وافادیت کو نظر اندا ز نہیں کیا جا سکتا ۔اگر آج بھی اس فن کے ماہر معالجین دستیاب ہوں تو امراض کی تشخیص کی بھاری فیسوں سے جان چھٹ جائے اور مرض کی درست تشخیص صرف نبض دیکھ کر کی جا سکے ۔
ڈاکٹر جاوید اختر چودھری نے اس حوالے سے بتایا کہ نبض شناسی کسی بھی معالج کی مہارت اور تجربات کا پیمانہ ہے ۔
یہ بات درست نہیں ہے کہ فنِ نباضی کو صرف ماضی ہی کا طریقِ تشخیص قرار دے کر جان چھڑالی جائے ۔
یہ مہارت آج بھی حاصل کی جا سکتی ہے ،لیکن اس کے لیے محنت ،لگن،ایمان داری ،خلقِ خدا کی خدمت کا جذبہ اور اخلاص درکار ہے ۔نبض شناسی دراصل طب کی ابجد ہے ،جس میں درسی علوم سے زیادہ مہارت کی ضرورت ہوتی ہے اور مہارت صرف اسی صورت میں آتی ہے ،جب محنت سے مسلسل مشق کی جائے۔اب معالجین جان جوکھوں میں ڈالنے کے بجائے تن آسانی سے کام لیتے ہیں اور خدمت کے جذبے کے بجائے پیسوں پر نظر رکھتے ہیں ۔
آج کل غربت کی وجہ سے مریضوں کی ایک بڑی تعداد اتائیوں کے ہاتھوں کھلونا بنی ہوئی ہے ۔صاحب ثروت افراد کھانے پینے پر اندھا دھند دولت خرچ کر رہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ امراض کی اقسام اور شرح بتدریج بڑھ رہی ہے ۔مشینی اور دیگر غیر معیاری تشخیصی ذرائع پر انحصار کیا جارہا ہے ،لیکن اصلی ،حقیقی اور موٴثر تشخیصی پیمانے کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔نبض دراصل بیماریوں کی تاریخ نویس ہوتی ہے ،جو ایک ماہر نجومی کی طرح احوالِ بدن بیان کرنے پر قدرت رکھتی ہے ۔تعلیمی نصاب میں نبض کے حوالے سے تمام مواد موجود ہے اور پڑھا یا بھی جاتا ہے ،لیکن نئی نسل اپنی عجلت پسندی اور عدم توجہی کے باعث اس طریق تشخیص کی طرف کم راغب ہوتی ہے ۔اگر نبض شناسی کے فن کو فروغ حاصل ہو جائے تو بہت سی تشخیصی مشکلات کم ہو جائیں گی اور بیماریوں کا علاج کرنا آسان ہو جائے گا۔

تاریخ اشاعت: 2019-01-22

Nabaz Chup Nahi Rehti
Nabaz Chup Nahi Rehti Pulse does not remain silent Mohammad Usman Hamed Pulse is a strange thing, it does not keep quiet, but also everything. Through the brain causes the diseases of the hidden diseases to be known for vomiting, their bad effects and their remedies.
It is late to keep fingers on the pulse, which makes it known to the person who is suffering from the human being.Chance has been invented for the diagnosis of diseases, such as seeds and instruments, such as the structure of the pulse Based on

Nabaz Chup Nahi Rehti Nowadays, we examine a lot of tests to diagnose various diseases on the path of the physician. Then the patient can read the report and find out that the patient is suffering from the fluid. Then they suggest treatment and illness. Nabaz Chup Nahi Rehti
Earlier the diagnosis was diagnosed with the pulse and the dependence on the life of the disease was done on it.

Nabaz Chup Nahi Rehti Big drinks are still alive in history and we are surprised to read about their knowledge and skill.

Nabaz Chup Nahi Rehti The doctor who uses President Ben (STETHOSCOPE) is made based on the pulse itself. President Ben instrument also has reached the ear of the physician in the heart of the physician, as the path of pulmonary rats goes through. Comparison and obliviousness of the patient reach the bottom of the patient.
Norden, a leading ruler of the Himalayas, was a well-known physician of his time, he was the Royal Physician of this era. He was involved in his responsibilities to treat the Bishops, Rajas, and Maharajas, They used to see that their wrist was closed with one side of the thread and the other one was in the hands of Hakim Nooruddin and he used to describe the story of pulmonary patient with his wisdom and observation.S hakim Nooruddin Reputation also reached the king of Kabul.
King of Kabul decided to take the examination and shouted them in a royal guesthouse or two days later, Hakim was informed that a curtained lady of Harmony royal is fried, watching her pulse. Doing you have to diagnose the disease. Chronic women could not come in front of them, so their pulse was seen with the help of the thread. This was not new for Hakim Nuruddin, so they took full responsibility.
According to the king, along with his ministers and officials, according to this, a thread of thread tied with a cat’s leg instead of a woman’s wrist, and secondly Hakim Nooruddin was tamed.
He took a look at the thread and took a few minutes. Then looked at the king and smiled:
“Sir! This thread is not from the wrist’s wrist, but also close to cat leg and as far as the cat is, it can be healthy. ”
Not long ago, our English adolescent doctor also did the same on the pulse. Nabaz Chup Nahi Rehti
A surgeon of heart surgery, which operated in the heart of one of his patients. After some time, when the patient came to examine the routine, as soon as the doctor saw the pulse of the patient, he immediately said:
“Regardless of my guidance, you do not eat the medicines regularly and also leave precautions. You are telling pulse that the disease is flowing.” Nabaz Chup Nahi Rehti
It was the doctor, knowledge, and expertise of the doctor that he told everything. Even today, it is difficult to tell the body’s internal states, but the only difference is that such a medical doctor and doctor are very few now. It is a matter that a woman went to a clinic for treatment of minor fever, a woman presents there, found her pulse. Dravida had a lot of skill on art and nervousness. He told the woman that she It is possible that they are twins born to them. They instructed the patient to instantly get an ultrasound, to find out the truth. Nabaz Chup Nahi Rehti
It is a fact that Greece’s medicine and medicine both have a valid status. If the birth place does not take place from Greece, the promotion has always found it. It is not common today, as it was in the past, but its significance to utility The eyes cannot be blinded.I f still, the artists of this art are available, they can get rid of acute diagnosis fees and correct evaluation of the disease can only be seen by the pulse. Nabaz Chup Nahi Rehti
Nabaz Chup Nahi Rehti Dr. Javed Akhtar Chaudhary said in a statement that pulse analysis is a measure of skill and experiments.
It is not correct that the art should be revealed by justifying the preceding method of the past.
This skill can be achieved today, but it requires passion, dedication, faith, passion and sincerity of the service of God. There is actually a problem of medicine, which requires more skill than the textbook. And skill comes only when working hard to work continuously. Instead, instead of putting them in mind, the physicians who work closely and look at money instead of service sentiments. Nabaz Chup Nahi Rehti
Nabaz Chup Nahi Rehti Today, due to poverty, a large number of patients toyed with elephants. The people who are suffering from blind food are spending money on eating food. This is because the types and rates of diseases are increasing.M fishing and others Depending on non-standard diagnostic sources, the real, real and effective diagnostic measure are being ignored. Indeed, the history of diseases is auspicious, which is the power to describe the body like a specialist. The curriculum contains all materials available on the pulse or is also read, but the new generation, its unusual and non-meditation The draw is reduced by this method be diagnosed if the pulse increase knowledge of the many diagnostic trouble Art

Source Link

Tags
Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close