Health Tips Symptoms and Treatment

Khoon Ka Atia Kisi Ke Zindagi Bacha Sakta Hai

خون کا عطیہ کسی کی زندگی بچا سکتا ہے

Khoon Ka Atia Kisi Ke Zindagi Bacha Sakta Hai

خون کا عطیہ کسی کی زندگی بچا سکتا ہے

Khoon Ka Atia Kisi Ke Zindagi Bacha Sakta Hai desi totkay in Urdu

رانا اعجاز حسین چوہان
انسانی جسم کا ایک لازمی جزو خون ہے جو کہ دل اورشریانوں کے ذریعے جسم کے اعضاء میں گردش کرتا رہتا ہے ، اور کسی بھی انسان کو شدید بیماری ، سرجری اور حادثاتی صورتحال میں خون، پلازما، وائٹ سیل کی ضرورت پیش آسکتی ہے ، قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کے لیے خون کے عطیات انتہائی اہم اور ضروری ہیں۔ کسی بھی ضرورت مند مریض کو خون عطیہ کرنا صدقہ جاریہ میں شمار ہوتا ہے، جبکہ کسی دوسرے انسان کی مدد سے قدرت الٰہی کی جانب سے قلبی سکون و راحت حاصل ہوتی ہے اور انسان ہر قسم کی آفات اور محرومیوں سے نجات پاتا ہے۔

قرآن پاک کی سورة المائدہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک انسان کی جان بچانے کو پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف قرار دیاہے۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ خون عطیہ کرنے سے انسان کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ یہ بات بالکل درست نہیں۔

ہر تندرست انسان کے بدن میں تقریباً ایک لیٹر (یعنی دو سے تین بوتلیں) اضافی خون ہوتا ہے، ماہرین صحت کا کہناہے کہ ہر تندرست انسان کو سال میں کم از کم دو بار خون کا عطیہ ضرور د ینا چاہئے اس سے صحت پر کسی قسم کے منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے ، بلکہ خون کا عطیہ دینے والے افراد صحت مند رہتے ہیں۔

خون عطیہ کرنے میں جتنا خون لیا جاتا ہے وہ انسانی جسم تین دن میں پورا کرلیتا ہے، جبکہ خون کے سیلز 56 دن میں بن جاتے ہیں اور نئے خون کے خلیات پرانے خون سے زیادہ صحتمند اور طاقتور ہوتے ہیں جو انسان کو کئی امراض سے بچاتے ہیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ایک بار خون کا عطیہ دینے کے بعد دوبارہ تین ماہ یا اس سے بعد دینا چاہیے۔ امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کی ایک ریسرچ کے مطابق جو لوگ وقتاً فوقتاً خون کا عطیہ دیتے ہیں ان میں دل کا دورہ پڑنے اور کینسر لاحق ہونے کے چانسز95 فیصد تک کم ہو جاتے ہیں۔جسم میں آئرن کی زیادہ مقدار اور اس کے کم اخراج کی وجہ سے آئرن انسان کے دل ، جگر اور لبلبہ کو متاثر کرتا ہے، جبکہ ریسرچ سے ثابت ہوا ہے کہ جسم میں آئرن کی مقدار کو بیلنس رکھنے کیلئے خون عطیہ کرنا ایک نہایت مفید عمل ہے۔ اس عمل سے رگوں میں خون کے انجماد کو روکنے اور جسم میں خون کے بہتر بہاوٴ میں مدد ملتی ہے۔ باقاعدگی سے خون دینے والے ڈونرز موٹاپے کا شکار نہیں ہوتے کیونکہ خون دینے کا عمل جسم کی چربی کو کم اور وزن کنٹرول کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔خون عطیہ کرنے کے بعد نئے خون کے بننے سے چہرے میں نکھار پیدا ہوتا ہے اور یہ چہرے پر بڑھاپے کے اثرات کو زائل کرتا ہے۔
دنیا کے دیگر ممالک میں خون کا عطیہ دینے والے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن افسوس کہ ہمارے ملک میں صرف1سے 2 فیصد ایسے افراد ہیں جوکہ رضاکارانہ طور پر خون کا عطیہ دیتے ہیں جبکہ دیگر افراد حادثات یا دیگر سنگین صورتوں میں خون عطیہ کرتے ہیں۔جبکہ ہر وہ شخص جس کی عمر17سے 50سال اور وزن تقریباً50کلو سے زائد ہو وہ خون کا عطیہ دے سکتاہے۔اس کے علاوہ عطیہ شدہ خون کی جدید مشینوں پر 7 طرح کی ٹیسٹنگ کی جاتی ہے، جن میں ہیپاٹائٹس بی۔ سی، ایڈز ، ملیریا اور آتشک کے ٹیسٹ شامل ہیں،اور اس کی مکمل رپورٹ بمع ہیمومن گلوبن اور بلڈ گروپ کے مہیا کی جاتی ہے جس کی وجہ سے ڈونر اپنی کسی بھی پوشیدہ بیماری سے لاعلاج ہونے سے پہلے آگاہ ہو جاتا ہے۔اگر عام حالات میں یہ ٹیسٹ کسی معیاری لیبارٹری سے کروائے جائیں تو ان کا معاوضہ ہزاروں روپے ہوتا ہے، جبکہ خون عطیہ کرتے وقت یہ ٹیسٹ بلامعاوضہ ہوجاتے ہیں ۔ گزشتہ دنوں انڈس ہسپتال اور حکومت پنجاب کے اشتراک سے ملتان میں قائم جدید ترین کمپیوٹرائیزڈ ریجنل بلڈ سنٹر کے وزٹ کا موقع ملا اور یہاں کے صاف ستھرے ماحول ، بلامعاوضہ خدمات اور ٹیم کی محنت اور صلاحیت کو دیکھ کر دلی طور پر بہت خوشی ہوئی ۔یہاں یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ کس قدر باریک بینی سے بلڈ ڈونر کی میڈیکل ہسٹری ، وزن اور طبی جانچ، اور جدید ترین مشینوں پر تمام ضروری ٹیسٹوں کے بعد خون کے عطیات ڈونرز سے مریضوں کو منتقل کئے جاتے ہیں۔ریجنل بلڈ سنٹر ملتان کے ساتھ قائم وسیع و عریض کمپیوٹرائیزڈ کڈنی سنٹر بھی پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت قائم ہے جہاں پورے عزت نفس کے ساتھ مریضوں کا علاج معالجہ ، ہر قسم کے ٹیسٹ مکمل بلامعاوضہ ہوتے ہیں۔ڈائی لیسزایک مہنگا علاج ہے درمیانہ طبقہ بھی اس کا خرچ برداشت نہیں کرسکتا،جبکہ یہاں وہ بالکل مفت ہے۔ ایسے دور میں جب سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی سہولیات اور معیار انتہائی کم اور اخراجات روز افزوں ہیں، کسی ایسے ہسپتال کا تصور کہ جس میں داخلے کے بعد مریض اور اس کے لواحقین سے ایک پیسہ بھی نہ لیا جاتا ہو اگر ناممکن ہے تو انڈس ہسپتال بنانے اور چلانے والوں نے اسے ممکن کر دکھا دیا ہے، پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت خدمت خلق کے جذبے سے سرشار بغیر نفع کام کرنے والے اس ادارے کی کارکردگی شاندار ہے، جس پر یہ ادارہ خراج تحسین کا مستحق ہے، خدمت خلق کی ایسی روشن اور حوصلہ افزا مثال وطن عزیز میں کم کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے ۔
پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے فارمولے کے تحت حکومت خدمات کی فراہمی کے بجائے نگرانی اور رہنمائی کے فرائض پر فوکس رکھتی ہے، یہی وجہ سے کہ یہاں بہترین نتائج کے لیے انتظامات میں سیاسی مداخلت کو قطعاً برداشت نہیں کیا جاتا۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ غریب وترقی پذیر ممالک میں نجی شعبے کی ریگولیشن ایک اہم مسئلہ رہا ہے لیکن جن ممالک نے نجی شعبے کی ریگولیشن پر سختی سے عمل کیا ہے وہ ممالک ترقی پذیر سے ترقی یافتہ بننے کی منازل تیزی سے طے کرتے جا رہے ہیں۔جبکہ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے طریقہ کار سے انڈیا ، ساؤتھ افریکا اور سینی گال جیسے ممالک اپنے ملک میں صحت عامہ کی صورتحال کو مستحکم کرچکے ہیں۔ جبکہ مسلم معاشرے نے بہت سے ایسے ادارے بنائے جو ہر طرح کی سیاسی وابستگی یا مالی مفادات سے بالاتر خدمت انسانیت کا جذبہ رکھتے ہیں ان ہی میں ایک انڈس ہیلتھ کیئر حکومت پاکستان ، انتظامیہ اور مخیر حضرات کے ساتھ مل کر تمام شعبوں میں مثالی خدمات سر انجام دے رہا ہے جس کا صلہ صرف دعائیں ہے۔یہاں واضع رہے کہ عام بلڈ بنکوں میں معیاری ا سکریننگ نہ ہونے کی وجہ سے بچے ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا ہورہے ہیں۔ خون کی منتقلی سے قبل اسکریننگ انتہائی ضروری ہے تاکہ خون کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریوں کو روکا جاسکے اور ضرورت مند کو معیاری اور صاف خون فراہم ہوسکے۔ ماہرین صحت کے مطابق ہمارے معاشرے میں ہیموفیلیاکے مریضوں کی تعداد بہت بڑھ رہی ہے،مریضوں میں ہیموفیلیا اے اور بی کثرت سے پایا جاتا ہے،خون کا عطیہ کرنے والے میں اگر ہیموفیلیا اے اور بی جیسا کوئی وائرس نکل آئے تو اس سے مریض متاثر ہوسکتا ہے۔ریجنل بلڈ سنٹر کے ڈاکٹرز جدید ترین مشینوں پر تمام وائرس کی مکمل ا سکریننگ یقینی بناتے ہیں، جس کے بعد کسی وائرس کی منتقلی کا شبہ تک نہیں رہتا۔اس ادارے کے منتظمین خون کے معیاری عطیات کے حصول کے لیے یونیورسٹیز ، کالجز اور دیگر تعلیمی اداروں اور کاروباری مراکز میں بلڈ کیمپ لگاتے ، اور لوگوں کو خون کے عطیات کی اہمیت سے آگاہی فراہم کرتے ہیں، اور ڈونر کے کسی بیماری میں مبتلا ہونے کی صورت میں اسے مرض کی رپورٹ اور ڈاکٹرز اس مرض کے علاج کے بارے میں مکمل آگاہی فراہم کرتے ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق ہمارے جسم میں خون کی زندگی محض 120 دن ہوتی ہے تو کیوں نہ ہم وہ خون ضائع ہونے سے بچائیں، اپنے اندر خدمت خلق کا جذبہ بیدار کریں ، خون کا عطیہ دیں اور کسی کی زندگی بچائیں۔

تاریخ اشاعت: 2019-02-01

Related Articels

  1. Diabetes Type 1 Ya Type 2
  2. Makayi Aur Is Ka Sehat Bakhash Tail
  3. Kiya App Nashta Karte Hain
  4. Khushbo Se Sartan Ka Ilaaj
  5. Junk Food Tips In urdu
  6. Kaan Naak Aur Halak Ke Masail
  7. Aaj Halwa Kaddu Pakatay Hain
  8. Bachon Ki Achi Sehat
  9. Daalon Se Sehat
  10. Tall Burhapay Ke Dushman

Khoon Ka Atia Kisi Ke Zindagi Bacha Sakta Hai desi totkay in Urdu Blood donation can save someone’s life
Rana Ejaz Hussein Chohan
Khoon Ka Atia Kisi Ke Zindagi Bacha Sakta Hai desi totkay in Urdu An essential component of the human body is blood that circulates in the body’s organs through heart and eyes, and any person may require blood, plasma, white cell in severe illness, surgery and accidental situation. Blood donations are very important and essential to save lives. The donation of blood to any needy patient is counted in the charity, while with the help of another man, the power of the Almighty brings fortune and comfort, and the human is saved from every kind of disaster and deprivation.

Khoon Ka Atia Kisi Ke Zindagi Bacha Sakta Hai desi totkay in Urdu In Surah al-Ma’ida of the Koran Allaah Almighty has described the saving of a human being as a means of saving the entire humanity. Most people believe that donating blood has negative effects on human health, while it is not accurate.

Khoon Ka Atia Kisi Ke Zindagi Bacha Sakta Hai desi totkay in Urdu Each healthy person has approximately one liter (i.e. two to three bottles) in excess of blood, experts say that every healthy person should have donated blood at least two times a year in it The negative effects are not compatible, but those who donate blood are healthy.

Khoon Ka Atia Kisi Ke Zindagi Bacha Sakta Hai desi totkay in Urdu The blood that is taken to blood donates the human body in three days, whereas blood cells become in 56 days and new blood cells are more healthy and powerful than old blood that can save humans from many diseases. Are there It is also necessary to give once three months or more after donating blood. According to a research from the American Medical Association, those who donate blood donatively, reduce diarrhea and chances of getting rid of cancer less than 95%.

Khoon Ka Atia Kisi Ke Zindagi Bacha Sakta Hai Due to the high amount of iron and low emission in the body Iron influences the heart, liver and liver of the human being, while research has proved that donating blood to balance the amount of iron in the body is a very useful process.

Khoon Ka Atia Kisi Ke Zindagi Bacha Sakta Hai This process helps prevent blood disorders in the veins and improve blood flow in the body. Donor regular donors are not victims of obesity, because blood pressure reduces body fat and helps in controlling weight.

Khoon Ka Atia Kisi Ke Zindagi Bacha Sakta Hai After blood donation, new blood becomes visible in the face and it faces But aggravates the effects of growth.
Khoon Ka Atia Kisi Ke Zindagi Bacha Sakta Hai desi totkay in Urdu The number of people donating blood in other countries of the world is very high, but regret that there are only 1 to 2 percent of those people who donate blood voluntarily while other people donate blood in accidents or other serious cases. Although every person aged 17 to 50 years and weighs more than about 150kg, he can donate blood.

Khoon Ka Atia Kisi Ke Zindagi Bacha Sakta Hai desi totkay in Urdu Apart from this, blood donated machines are equipped with 7 different types of test machines, including hepatitis B. Examples of C, AIDS, Malaria and Fireworks are included, and its full report is provided with hemmon glucose and blood group, due to which donor is aware of any of its hidden diseases before it comes out. If the common In cases,

Khoon Ka Atia Kisi Ke Zindagi Bacha Sakta Hai desi totkay in Urdu if they are done with a standard laboratory, their compensation is of thousands of rupees, while the blood gets donated by donating blood. The last day, the presence of the Indian hospital and the government of Punjab was the opportunity to visit Multan, the latest computerized Regional Blood Center, and it was delighted to see the clean environment,

Khoon Ka Atia Kisi Ke Zindagi Bacha Sakta Hai desi totkay in Urdu service services and team’s work and ability. It was surprised to see how patiently blood donor medical history, weight and medical examination, and all the necessary tests on the latest machines are transferred to patients with donor donors. With the Golden Blood Center Multan Founder of the widespread computerized Kidney Center is also set up under Public Private Partnership, where full respect S therapeutic treatment, and every type of test is complete.

Khoon Ka Atia Kisi Ke Zindagi Bacha Sakta Hai desi totkay in Urdu Dysfunctional is expensive treatment medium class can not bear the cost of it, while here it is absolutely free. In such a period when the treatment facilities and standards of government hospitals are extremely low and cost-effective,

Khoon Ka Atia Kisi Ke Zindagi Bacha Sakta Hai desi totkay in Urdu the idea of a hospital that does not take any money from the patient and its surveillance after admission is possible if the indis hospital Creating and running people have shown it possible, the performance of the service-driven non-profitable service service is a great way of public service partnership under Public Private Partnership, on which the organization is eligible for tribute, service such a brightness And encouraging example, dear, I can see less.
Khoon Ka Atia Kisi Ke Zindagi Bacha Sakta Hai desi totkay in Urdu Under the public-private partnership formula, the government maintains focus on monitoring and guidance rather than providing services, that is why political interference in management is not tolerated for the best results here.

Khoon Ka Atia Kisi Ke Zindagi Bacha Sakta Hai desi totkay in Urdu It has come to be seen that private sector regulation has been a major issue in the poorest countries, but the countries who have strictly implemented the private sector regulation are making the most rapid progress to become developed from developing countries.

Khoon Ka Atia Kisi Ke Zindagi Bacha Sakta Hai desi totkay in Urdu Although the countries like India, South Africa, and Senegal, have established the health situation in their country with public-private partnership methods. While the Muslim society has created many organizations that have a passion of service related to all kinds of political affiliations or financial interests,

Khoon Ka Atia Kisi Ke Zindagi Bacha Sakta Hai desi totkay in Urdu in the same way, an Indian Healthcare Government, along with the administration of the Government of Pakistan, the administration and the cadre, provide ideal services in all fields. It is a promise that is just the claim

Source Urdupoint..

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close