Backache & Back Pain

Kamar Ka Dard Kiya Hai

Kamar Ka Dard Kiya Hai

کمر کا درد کیا ہے!

Kamar Ka Dard Kiya Hai

Kamar Ka Dard Kiya Hai

تاریخ اشاعت: 2019-01-29

چودھری محمد صبور:
دنیا میں دس میں سے آٹھ لوگ کبھی نہ کبھی کمر اور گردن کی تکلیف میں متلا ہوتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو یہ تکلیف وقتی طور پر ہوتی ہے لیکن بہت سے لوگوں کے لئے یہ عمر بھر پریشانی کا باعث بنتی ہے۔ ہم میں سے بہت لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ اس کا علاج تو ممکن ہے لیکن بدقسمتی سے کئی بار مرض کی تشخیص کے باوجود علاج ٹھیک طرح نہیں ہو پاتا۔

دن بھر کے کاموں میں انسان اتنا الجھا ہوتا ہے کہ وہ اپنی صحت کی طرف دھیان نہیں رکھ پاتا۔ جس کی وجہ سے وہ مختلف قسم کی تکالیف جن میں کمر، سر، گردن، جوڑوں وغیرہ کے درد میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ان بیماریوں کا سب سے زیادہ شکار دفتر، ہوٹل، ہسپتال اور فیکٹریوں وغیرہ میں کام کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ سارا دن کام کرنے سے انسان جسمانی اور ذہنی تھکاوٹ کا شکار ہو جاتا ہے اور نہ مکمل آرام اس کو تکلیف میں مبتلا کر دیتا ہے۔

اس سلسلہ میں جب مےں ایک آرٹ ڈائریکٹر مس حنا سردار سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ”میراپورا دن ایک ہی کرسی پر بیٹھ کر کام کرتے ہوئے گزرجاتا ہے۔ اور شام کو گھریلو مصروفیات میں الجھ جاتی ہوں جس کی وجہ سے میں بالکل آرام نہیں کر پاتی اورپچھلے کچھ عرصے سے میں کمر درد کی مریضہ بن چکی ہوں۔“کمردرد میں انسان کی کمر کے مختلف عضلات کمزور ہو جاتے ہیں کمر کے ساتھ ساتھ ٹانگوں اور گردن میں بھی درد شروع ہو جاتا ہے اور انسان سخت بے چینی کا شکار ہو جاتا ہے۔دفتر میں کام کرنے والے لوگ عام حالات میں کام کرنے والوں سے زیادہ سخت رو ٹےن میں کام کرتے ہیں کیونکہ ان کا سارا دن ایک جگہ بیٹھنے یا کھڑے ہو کر ےاسامان اٹھانے مےں گزر جاتا ہے اور اس بے احتیاطی میں انسان کمر درد کی تکلیف میں متلا ہو جاتا ہے۔ کرسی پر غلط انداز سے بیٹھنے ، الٹا سونے، بھاری چیز اٹھانے اور زیادہ دیر تک جھک کر کام کرنے سے تکلیف زیادہ تر جنم لیتی ہے۔جب اس سلسلے میں آرتھو پیڈک ٹریٹمنٹ کے ادارے خان کعینٹیک ٹریٹمنٹ (کے کے ٹی) جو کمر درد کی تکلیف میں مبتلا مریضوں کے لئے‘ اپنی نوعیت کا واحد ادارہ ہے سے رابطہ کیا گیا تو ڈائریکٹر ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر نعمان ذکریا نے بتایا کہ ”کمردرد کی کوئی ایک خاص وجہ نہیں، کبھی یہ ڈسک کی جگہ تبدیل ہونے، کبھی زیادہ دیر تک ایک ہی جگہ بیٹھنے، بھاری سامان اٹھانے اور بعض اوقات یہ ایکسیڈنٹ کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔کچھ لوگ اپنی کمر کا ضرورت سے زیادہ ہی خیال رکھتے ہیں کےونکہ ان کو اس تکلیف کے لاحق ہونے کا زیادہ خدشہ ہوتا ہے کیونکہ وہ تو ورزش کرتے ہیں اور نہ ہی کوئی اور جسمانی محنت ‘ جس کی وجہ سے تھوڑے سے کام کرنے سے وہ اس تکلیف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔کمر کی تکلیف آپ کے کام کرنے کے عمل کو بری طرح متاثر کرتی ہے کیونکہ قدرت نے ہماری کمر کی ہڈی اس طرح کی نہیں بنائی کہ ہم اس پر زوردیتے ہوئے کافی دیر تک کمپیوٹر کے سامنے یا کرسی پرگزار دیں۔“ جسمانی اور ذہنی دباو¿ کی وجہ سے گردن کو سہارا دینے والے پٹھے اکڑ جاتے ہیں اور درد شروع ہو جاتا ہے۔ یہ درد کمر کے بالائی حصے سے ہوتا ہوا سرتک بھی پہنچ جاتا ہے۔ تھکاوٹ، سکرین پر چھوٹے الفاظ پڑھنے کی کوشش اور کام جلد کرنے کی ٹینشن ‘ یہ ساری چیزیں پٹھوں کودباو¿ میں لے آتی ہیں۔ اس دباو¿سے درد میں مزید شدت پیدا ہو جاتی ہے۔اس سلسلے میں بنک میں کام کرنے والے جبران علی سے جب پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ”میری عمر 35 سال ہے اور میں پچھلے 5 سال سے کمر درد کی تکلیف میں مبتلا ہوں۔ کیونکہ میںسارا دن کمپیوٹر کے سامنے ایک ہی کرسی پر گزار دیتا ہوں جس کی وجہ سے میں جب بھی کوئی چیزاٹھانے لگوں تو پٹھوں میں کھنچاو¿ اور تکلیف محسوس کرتا ہوں اور کام میں بالکل دھیان نہیں دے پاتا۔“کمر کے زیادہ تر درد کی وجہ سے ریڑھ کی ہڈی پر چوٹ نہیں ہوتی بلکہ عموماً یہ درد اس وقت ہوتا ہے جب ان ٹشوز جن کا کام ریڑھ کو سہارا دینا ہوتا ہے ان پر دباو¿ پڑتاہے یا وہ کھنچ جاتے ہیں جن کا خیال انسان کے شعور میں نہیں ہوتا اور ذرا سی بے احتیاطی اس کو مرض میں مبتلا کر دیتی ہے۔ اگر دفتر ہسپتال، سکول، فیکٹری وغیرہ میں کام کرنے والے لوگ ذرا سی احتیاطی تدابیر اپنا لیں تو وہ اس تکلیف سے چھٹکارہ پا سکتے ہیں۔جیسا کہ روز کی ورزش ‘بھاری سامان اٹھاتے ہوئے احتیاط اور کرسی یا صوفے پر صحیح اندازسے بیٹھنا۔اس سلسلہ میں کینڈین آرتھو پیڈک اور ری ہیبلیٹیشن سنٹر کی ڈاکٹر فوزیہ نے احتیاطی تدابیر بتاتے ہوئے کہا کہ ”کام کے دوران، ٹی وی دیکھتے ہوئے انسان کوچست بیٹھنا چاہئے، کبھی الٹا نہیں سونا چاہئے، ہمیشہ تکیہ لے کر سونا چاہئے اور کبھی بھی پیچھے کی طرف نہیں جھکنا چاہئے“ اس طرح ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی احتیاط سے انسان ان تکالیف سے بچ سکتا ہے۔

Related Articles

Kamar Ka Dard Kiya Hai I’m sorry Chaudhry Mohammad Saboor:
In the world, eight out of ten people are sometimes in the waist and neck pain. Some people suffer from time to time, but for many people it causes ages all over. Many of us are aware that it is possible, but unfortunately, despite the diagnosis of the disease many times, the treatment does not fit properly.

Kamar Ka Dard Kiya Hai In everyday tasks man is so confused that he does not care for his health. Due to which different types of complications that suffer from pain, head, neck, joints etc. The most vulnerable to these diseases are people working in offices, hotels, hospitals, and factories. Working all day makes a person suffer from physical and mental fatigue and does not completely rest in it.

Kamar Ka Dard Kiya Hai In this regard, when an art director asked Mr. Hanna Sardar, he said that “My grandfather day sits on the same chair and passes through work. And in the evening, I am disturbed in domestic engagement, due to which I can not relax at all, and for some time I have become a lung of pain.

Kamar Ka Dard Kiya Hai “The muscles of the waist in the waist in the waist are weak, the waist along with the waist And the neck begins to get pain and the person becomes very uncomfortable. People who work in the work more often than those who work in normal situations, because they all sit in one place or Stirring in standing and moving in motion, and in this uncertainty,

Kamar Ka Dard Kiya Hai man becomes disconnected in the pain of pain. Working hard by sitting on the chair, turning upside down, heavy stuffing and bending for a long time brings birth to a lot of trouble. When there is a pain in the heart of Khan Quintic Treatment (KT), the Orthopedic Treatment Institute of Orthopedic Treatment “No specific reason for the was a trade, sometimes it is a place of disconnect,

Kamar Ka Dard Kiya Hai sometimes in a single place for a long time,” Director Numman Dhimya said, “The only institution for its inconvenient patients is contacted. Seating, lifting heavy equipment and sometimes it is due to the accident. Some people consider their waist as much as they need.

Kamar Ka Dard Kiya Hai Because they are more concerned about being an inconvenience because they do not exercise nor any other physical hard work, due to which they work in a little bit of trouble. Badly affects the working process because power did not make our waist bone in such a way that we should push it on a computer front or chair for a long time. “Physical and mental pressure? The muscles of the neck get stuck and the pain starts.

Kamar Ka Dard Kiya Hai This pain also comes from the upper part of the waist’s upper waist. Fatigue, tiny words reading on the screen and tanning work ‘all these things should be muscles jumped? ¿ This stress is more intense in pain. When working in the bank working in the bank, when asked from Gibran Ali, he said, “I am 35 years old and I have been suffering from lasting 5 years of pain.

Kamar Ka Dard Kiya Hai I’m worried Because I spend the day on the same chair in the front of the computer because whenever I feel anything to touch, muscles in the muscles? I feel pain and feel uncomfortable. “Most of the waste of the waist Due to the spinal cord, there is no pain, but this pain usually happens when pressure on the tissue whose work is to support the back.

Kamar Ka Dard Kiya Hai All unhealthy diseases suffer from it. If people take care of all the precautions in the official hospital, school, factory, etc, they can get rid of this problem. As a daily exercise, take a piece of heavy luggage and sit on the chair or on the sofa properly. “During the work, watching TV,

Kamar Ka Dard Kiya Hai man should sit shortly, never should be replaced, always should be filled with a pillow and should never sleep back,” said Fauzia Ortho Pedak and Rehabilitation Center. It should not be bowed down. “In such a manner, careful care of these small things can prevent them from suffering.
Date published: 2018-05-11

Source UrduPoint

Tags
Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close